20 جولائی 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے رکن سید مرتضی حسینی نے کہا ہے کہ مجلس شورائے اسلامی میانمار میں مسلمانوں کے وحشیانہ قتل عام کا نزدیک سے جائزہ لے رہی ہے۔

ابنا: سید مرتضی حسینی نے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ انسانی حقوق کے دعویدار اداروں نے میانمار میں کئي دنوں سے جاری مسلمانوں کے قتل عام پر آواز تک نہیں اٹھائي ہے۔ مرتضی حسینی نے کہا کہ میانمار کے مسلمانوں کے قتل عام پر انسانی حقوق کی دعویدار تنظیموں کی خاموشی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ تنظیمیں ان سامراجی ملکوں کی حامی ہیں جو مسلمانوں کی سرکوبی کے خواہاں ہیں۔ یاد رہے میانمار میں بودھوں کے تشدد میں اب تک سیکڑوں مسلماں جاں بحق اور ہزاروں لاپتہ ہوچکے ہیں جبکہ لاکھوں گھر بار چھوڑ کر دیگر ملکوں میں پناہ لے چکے ہیں۔ بنگلادیش میں اس وقت پانچ لاکھ  میانماری مسلمان پناہ گزیں ہیں۔ ادھر برطانیہ میں ایک انسانی حقوق تنظیم کے سربراہ امجد سلفیتی نے میانمار میں مسلمانوں کو تشدد سے بچانے کے لئے اقوام متحدہ کے اقدامات کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔ امجد سلفیتی نے کہا کہ میانمار کی حکومت نے سرکاری طور پر مسلمانوں کے حقوق سلب کرلئے ہیں جس کی وجہ سے مسلمانوں کو کسی طرح کے حقوق حاصل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میانمار میں مسلمانوں کی مظلومیت عالمی برادری کے اقدامات کی متقاضی ہے۔

.......

/169